کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 610
امر بالمعروف ونہی عن المنکر فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ﴾ [النحل: ۹۰] ’’یقینا اللہ تعالیٰ عدل اور احسان کرنے اور قریبی رشتے داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے، شاید کہ تم نصیحت پکڑ لو۔‘‘ امر بالمعروف کی تعریف: المعروف سے مراد وہ کام جسے شریعت نے اچھا، بھلا اور نیک کام قرار دیا ہو، وہ کام بھلائی سے متعلق ہو، کتاب و سنت کے موافق ہو اور رضائے الٰہی کے حصول کا باعث ہو۔ امام جرجانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ھُوَ الْإِرْشَادُ إِلَی الْمَرَاشِدِ الْمُنْجِیَۃِ، ھُوَ مَا تَعْرِفُہُ النَّفْسُ مِنَ الْخَیرِ وَتَطْمَئِنُّ إِلَیہِ، مَعْرُوفٌ بَینَ النَّاسِ إِذَا رَأَوہُ لَا یُنْکِرُونَہٗ۔[1] ’’امربالمعروف سے مراد ہدایت اور نجات کے کاموں کی طرف راہنمائی کرنا ہے۔ اس سے مراد ہر وہ کام ہے جس کو نفس خیر و بھلائی سے پہچانتا ہو اور اس سے اطمینان پاتا ہو۔ (یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ) ایسا اچھا اور نیک کام ہے کہ [1] التعریفات: ۳۷.