کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 608
رَسُولُ اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم : ((بَلْ أَرْجُو أَنْ یُخْرِجَ اللّٰہُ مِنْ أَصْلَابِہِمْ مَنْ یَعْبُدُ اللّٰہَ وَحْدَہٗ لَا یُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا)) [1] ’’انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ پر کوئی ایسا دِن بھی آیا جو اُحد کے دن سے زیادہ شدید ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمہاری قوم سے بہت تکلیف پہنچی اورسب سے شدید تکلیف وہ تھی جو مجھے عَقَبہ کے دن پہنچی، جب میں خود کو ابن عبد یا لیل بن عبدکلال کے سامنے لے گیا (یعنی اسے دعوتِ اسلام دینے کے لیے)، لیکن جو میں چاہتا تھا اس نے میری وہ بات نہ مانی، میں غمزدہ ہو کر چل پڑا اور قرن ثعالب پر پہنچ کر ہی میری حالت بہتر ہوئی۔ میں نے سر اُٹھایا تو مجھے ایک بادل نظر آیا، اس نے مجھ پر سایہ کیا ہوا تھا، میں نے دیکھا تو اس میں جبرائیل علیہ السلام تھے، انہوں نے مجھے آواز دے کر کہا: جو کچھ آپ نے اپنی قوم سے کہا اور جو انہوں نے آپ کو جواب دیا، اللہ عزوجل نے وہ سب سن لیا ہے، اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ ان کفار کے متعلق اس کو جو چاہیں حکم دیں۔ پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی اور سلام کیا، پھر کہا: اے محمد! اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی طرف سے آپ کو دِیا گیا جواب سن لیا ہے، میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں اور مجھے آپ کے رب نے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں، اگر آپ چاہیں تو میں ان دونوں سنگلاخ پہاڑوں کو (اُٹھا کر) ان کے اوپر رکھ دوں۔‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: (نہیں) بلکہ میں یہ اُمید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ایسے لوگ نکالے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔‘‘ [1] صحیح مسلم: ۱۷۹۵.