کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 606
اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کفر کو ذلیل کر دے گا۔‘‘ سیدنا تمیم الداری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (عزت و ذِلت والے اس معاملے کو) اپنے گھر والوں میں ہی دیکھ لیا، ہم میں سے اسلام قبول کرنے والوں نے خیر، شرف اور عزت کو پا لیا اور ہم میں سے جو لوگ کافر رہے؛ ذِلت و حقارت اور جزیہ ان کا مقدر بنا۔ 14۔ تبلیغ کے لیے ہر طرح کے آدمی کے پاس جائیں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: قِیلَ لِلنَّبِیِّ صلي اللّٰه عليه وسلم : لَوْ أَتَیْتَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أُبَیٍّ، قَالَ: فَانْطَلَقَ إِلَیْہِ وَرَکِبَ حِمَارًا وَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ وَہِیَ أَرْضٌ سَبَخَۃٌ، فَلَمَّا أَتَاہُ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم قَالَ: إِلَیْکَ عَنِّی، فَوَاللّٰہِ لَقَدْ آذَانِی نَتْنُ حِمَارِکَ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَاللّٰہِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم أَطْیَبُ رِیحًا مِنْکَ، قَالَ: فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللّٰہِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِہٖ، قَالَ: فَغَضِبَ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا أَصْحَابُہٗ، قَالَ: فَکَانَ بَیْنَہُمْ ضَرْبٌ بِالْجَرِیدِ وَبِالْأَیْدِی وَبِالنِّعَالِ، قَالَ: فَبَلَغَنَا أَنَّہَا نَزَلَتْ فِیہِمْ: ﴿ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ﴾ [الحجرات: ۹][1] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی کہ (کیا ہی اچھا ہو) اگر آپ عبداللہ بن اُبی کے پاس (تبلیغ کے لیے) تشریف لے جائیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سواری فرما کر اس کی طرف گئے اور (آپ کے ساتھ) مسلمان بھی گئے۔ وہ شوریلی زمین تھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا: مجھ سے دُور رہیں، اللہ کی قسم! آپ کے گدھے کی بُو سے مجھے اذِیت ہو رہی ہے۔ انصار میں سے [1] صحیح مسلم: ۱۷۹۹.