کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 605
’’بلند مقام پانے کے لیے (اپنے) وطن کو چھوڑ دے اور (دیگر علاقوں کا) سفر کر، کیونکہ سفر کرنے میں پانچ فوائد ہیں: غم زائل ہو جاتا ہے، روزی ملتی ہے، علم، آداب اور اللہ تعالیٰ کی معیتِ خاصہ (نصرت اور تائید) حاصل ہوتی ہے۔‘‘[1] 13۔ دِین کی تبلیغ گھر گھر پہنچ کر رہے گی اللہ تعالیٰ نے اپنے دِین کو گھر گھر میں پہنچانا ہے اور یہ پہنچ کر ہی رہے گا لیکن ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ اس مشن میں استعمال کون کون ہوتا ہے؟ اس عظیم کام کے لیے ہم اپنی خدمات کس قدر دے سکتے ہیں؟ اس مبارک مقصد کے لیے ہم نے کتنا وقت دیا ہے؟ یقینا اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے انہی بندوں کا انتخاب فرمائے گا جنہیں وہ پسند فرمائے گا، لہٰذا ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم اس سلسلے میں اپنا مالی، فکری اور علمی تعاون کس قدر پیش کر سکتے ہیں۔ سیدنا تمیم الداری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ((لَیَبْلُغَنَّ ہٰذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ، وَلَا یَتْرُکُ اللّٰہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللّٰہُ ہٰذَا الدِّینَ، بِعِزِّ عَزِیزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِیلٍ، عِزًّا یُعِزُّ اللّٰہُ بِہِ الْإِسْلَامَ، وَذُلًّا یُذِلُّ اللّٰہُ بِہِ الْکُفْرَ)) وَکَانَ تَمِیمٌ الدَّارِیُّ، یَقُولُ: قَدْ عَرَفْتُ ذَالِکَ فِی أَہْلِ بَیْتِی، لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْہُمُ الْخَیْرُ وَالشَّرَفُ وَالْعِزُّ، وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ کَانَ مِنْہُمْ کَافِرًا الذُّلُّ وَالصَّغَارُ وَالْجِزْیَۃُ۔[2] ’’یہ دِین وہاں تک پہنچ جائے گا جہاں تک دن رات پہنچے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ اینٹوں والا یا خیمے والا کوئی گھر نہیں چھوڑے گا مگر اس میں عزت والوں کی عزت کے ساتھ اور ذِلت والوں کی ذِلت کے ساتھ دین کو داخل کر دے گا۔ عزت اس طرح کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا کرے گا اور ذِلت [1] دیوان الشافعی، ص: ۵۲. [2] مسند أحمد: ۱۶۹۵۷۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۳.