کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 601
پھر اسے یاد رکھا، یہاں تک کہ اسے آگے پہنچا دیا، اور بہت سے فقہ (یعنی دِین کی سُوجھ بُوجھ) کے حامل لوگ کسی ایسے شخص تک (وہ بات پہنچا دیتے) جو ان سے زیادہ فقیہ ہوتا ہے، اور بہت سے دِین کی سُوجھ بُوجھ رکھنے والے ایسے بھی ہوتے ہیں جو (درحقیقت) فقیہ نہیں ہوتے۔ تین امور ایسے ہیں کہ جن کے بارے میں مومن کے دِل سے خیانت نہیں کی جاتی: (ایک) اللہ (کی رضا) کے لیے عمل، (دوسرا) امورومعاملات کے نگرانوں کی خیرخواہی اور (تیسرا) مسلمانوں کی جماعت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا۔ جس شخص کا مقصد آخرت (کا حصول) ہو اللہ تعالیٰ اس کے کاموں کو جمع فرما دیتا ہے، کفایت اس کے دِل میں ڈال دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس رُسوا ہو کر آتی ہے اور جس کا مقصد دنیا (کاحصول) ہو اللہ تعالیٰ اس کے کاموں کو منتشر کر دیتا ہے، اس کے فقر کو اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے اور دنیا بھی اسے صرف اسی قدر ملتی ہے جتنی اس کے نصیب میں لکھی ہوتی ہے۔‘‘ 6۔ تبلیغ دین اجر عظیم کا باعث ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ دَلَّ عَلیٰ خَیرٍ فَلَہٗ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِہٖ))[1] ’’جس نے بھلائی کے کام کا راستہ دِکھایا، اس کو بھی وہ (بھلائی کا کام) کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔‘‘ 7۔ تبلیغ و نفیر عذاب سے بچاؤ کا ذریعہ ہے فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ ﴾ [ہود: ۱۱۷] [1] صحیح الجامع:۶۲۳۹.