کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 60
کر دیا کہ ہمارا نظام یہ ہو گا۔ چنانچہ حصولِ آزادی کی کوششیں رنگ لائیں اور لاکھوں قربانیاں دینے کے بعد پاکستان کے نام سے ایک اور مسلمان سلطنت معرضِ وجود میں آئی۔ ان قربان ہونے والے شہداء میں مولانا فیض اللہ خان بھوجیانی رحمہ اللہ کے دو صاحبزادے عبداللہ اور عبدالرحیم بھی شامل تھے۔ واضح رہے کہ دعوت و تبلیغ کے اس کارواں کے سرخیل شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ تھے، ان کے بعد مولانا حافظ عبدالمنان وزیرآبادی رحمہ اللہ ، اور پھر مولانا حافظ عبداللہ روپڑی، مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا حافظ محمد اسماعیل سلفی، مولانا محمد داؤد غزنوی اور مولانا محمد گوندلوی رحمہم اللہ جیسے اعلام نے اس منہج کی آبیاری کی۔ حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ وہ شخصیت ہیں کہ ارضِ پاکستان نے ان جیسا ذہین پیدا نہیں کیا۔ آپ کے دو قابل فخر شاگرد مولانا حافظ محمد یحییٰ شرقپوری رحمہ اللہ اور مولانا حافظ محمد یحییٰ عزیز میرمحمدی رحمہ اللہ نے آپ سے صحیح بخاری پڑھی۔ ان صاحبین کے لیے یہ بڑی سعادت کی بات تھی کہ حضرت حافظ گوندلوی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پوچھا کہ تم دنیا میں کیا کام کر کے آئے ہو؟ تو میں کہوں گا کہ میں یحیین کو تیار کر کے آیا ہوں۔ یعنی ان دونوں کا علم و عمل اور زُہد و تقویٰ اس قدر تھا کہ ان کے شیخ ِ مکرم ان کو پڑھا کر میدانِ عمل کے لیے تیار کرنے کو ہی اپنے لیے اعزاز اور فلاح کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ حضرت مولانا حافظ محمد یحییٰ شرقپوری رحمہ اللہ فراغت کے بعد دین کی ترویج کے لیے بونگہ بلوچاں (پھول نگر، قصور) میں آکر رہائش پذیر ہوئے اور اپنے روحانی بھائی حضرت حافظ محمد یحییٰ عزیز میرمحمدی رحمہ اللہ کے ساتھ مشورہ کر کے ایک دینی ادارہ بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ چنانچہ اس بارے میں سن 1970میں پہلا اجلاس راجہ جنگ (قصور) میں ہوا۔ اسی سال دوسرا اجلاس مسجد اہلحدیث امین پور بازار فیصل آباد میں ہوا، جس میں حاجی غلام نبی خادم بھی شامل تھے۔ تیسرا اجلاس بھی اسی سال ہوا، جس کا مقام تاندلیانوالہ تھا۔ اس کے بعد بونگہ بلوچاں کے نیک طینت احبابِ گرامی نے دِینی مرکز کی تعمیر کے لیے 32کنال 14مرلے