کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 593
الْفَجْرِ وَصَلَاۃِ الظُّہْرِ، کُتِبَ لَہٗ کَأَنَّمَا قَرَأَہٗ مِنَ اللَّیْلِ)) [1] ’’جو شخص اپنے اوراد و وظائف نہ پڑھ سکے اور سو جائے، پھر وہ اسے فجر اور ظہر کی نماز کے درمیان پڑھ لے تو اس کے لیے یوں ہی لکھے جاتے ہیں کہ جیسے اس نے وہ رات ہی کو پڑھے ہوں۔‘‘ 21…جو رات کو وِتر نہ پڑھ سکے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِہٖ أَوْ نَسِیَہٗ فَلْیُصَلِّہٖ إِذَا ذَکَرَہٗ))[2] ’’جو شخص وِتر پڑھے بغیر سو جائے یا بھول جائے تو اسے چاہیے کہ وہ تب پڑھ لے جب اسے یاد آئے۔‘‘ 22…دوپہر کو آرام کیا کریں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((قِیلُوا، فَإِنَّ الشَّیطَانَ لَا یَقِیلُ)) [3] ’’قیلولہ (دوپہر کو آرام) کیا کرو، کیونکہ شیطان قیلولہ نہیں کرتا۔‘‘ 23… چکنائی والے ہاتھ دھو کر سوئیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ بَاتَ وَفِی یَدِہٖ رِیحُ غَمَرٍ فَأَصَابَہٗ شَیْئٌ فَلَا یَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَہٗ))[4] ’’جو شخص اس حال میں سوئے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو تھی، پھر اسے کوئی [1] صحیح مسلم: ۷۴۷. [2] سنن أبی داود: ۱۴۳۱۔ سنن الترمذی: ۴۶۶۔ صحیح الجامع: ۶۰. [3] سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۶۴۷، ۴۴۳۱. [4] سنن الترمذی: ۱۸۸۰۔ سنن ابن ماجہ: ۳۲۹۷۔ صحیح الجامع:۸۰۴.