کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 589
اور سیدنا نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَکَ مِنَ اللَّیْلِ فَاقْرَأْ قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ، ثُمَّ نَمْ عَلٰی خَاتِمَتِہَا، فَإِنَّہَا بَرَائَ ۃٌ مِنَ الشِّرْکِ)) [1] ’’جب تو رات کو اپنے بستر پر لیٹ جائے تو سورۃ الکافرون پڑھا کر، پھر اسے مکمل پڑھ کر سو جایا کر، کیونکہ بلاشبہ یہ شرک سے براء ت ہے۔‘‘ 15… تکبیر، تسبیح اور تحمید کا اہتمام کریں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی پیسنے کی وجہ سے ہاتھوں میں تکلیف کا عارضہ ہو گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خادم لینے کے لیے حاضر ہوئیں۔ آپ اس وقت گھر میں موجود نہیں تھے۔ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذِکر کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو اس کا بتلایا۔ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے جبکہ ہم اس وقت اپنے بستروں میں لیٹ چکے تھے۔ میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں ہی لیٹے رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں نے اپنے سینے میں آپ کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَلاَ أَدُلُّکُمَا عَلٰی مَا ہُوَ خَیْرٌ لَکُمَا مِنْ خَادِمٍ؟ إِذَا أَوَیْتُمَا إِلٰی فِرَاشِکُمَا، أَوْ أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَکُمَا، فَکَبِّرَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِینَ، وَسَبِّحَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِینَ، وَاحْمَدَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِینَ، فَہٰذَا خَیْرٌ لَکُمَا مِنْ خَادِمٍ)) [2] ’’کیا میں تم دونوں کو وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے؟ جب تم اپنے بستر پر جانے لگو یا سونے کے لیے بستروں پر آؤ تو 34مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ، [1] صحیح الجامع: ۲۹۲. [2] صحیح البخاری: ۶۳۱۸.