کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 583
٭…سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ((غَطُّوا الْإِنَائَ، وَأَوْکُوا السِّقَائَ، فَإِنَّ فِی السَّنَۃِ لَیْلَۃً یَنْزِلُ فِیہَا وَبَائٌ، لَا یَمُرُّ بِإِنَائٍ لَیْسَ عَلَیْہِ غِطَائٌ، أَوْ سِقَائٍ لَیْسَ عَلَیْہِ وِکَائٌ، إِلَّا نَزَلَ فِیہِ مِنْ ذَالِکَ الْوَبَائِ)) [1] ’’برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، کیونکہ بلاشبہ سال میں ایک رات ایسی آتی ہے جس میں وبا اُترتی ہے، جو (ہر) اس برتن کے پاس سے گزرتی ہے جس کو ڈھانپا نہ ہو، یا ایسے مشکیزے کے پاس سے جس کا منہ نہ باندھا ہو، تو وہ وبا اس میں پڑ جاتی ہے۔‘‘ 8… باوضوء حالت میں سوئیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((طَہِّرُوا ہٰذِہِ الْأَجْسَادَ طَہَّرَکُمُ اللّٰہُ، فَإِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ عَبْدٍ یَبِیتُ طَاہِرًا إِلَّا بَاتَ مَعَہٗ فِی شِعَارِہٖ مَلَکٌ، لَا یَنْقَلِبُ سَاعَۃً مِنَ اللَّیْلِ إِلَّا قَالَ: اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِکَ فَإِنَّہٗ بَاتَ طَاہِرًا)) [2] ’’تم (اپنے) ان جسموں کو پاک رکھا کرو؛ اللہ تعالیٰ تمہیں پاک فرما دے گا کیونکہ جو بھی بندہ پاکیزہ (یعنی باوضو ) حالت میں رات بسر کرتا ہے اس کے شعار میں ایک فرشتہ رات گزارتاہے اور رات کی کسی بھی گھڑی میں جب بندہ کروٹ بدلتا ہے تو وہ (اس کے لیے یہ دُعا) فرماتاہے: اے اللہ! اپنے بندے کو بخش دے؛ کیونکہ اس نے پاکیزہ حالت میں رات بسر کی ہے۔‘‘ [1] صحیح مسلم: ۲۰۱۴. [2] المعجم الأوسط للطبرانی: ۵۰۸۷۔ صحیح الجامع: ۳۹۳۶.