کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 58
الْإِسْلَامَ دِينًا ﴾ [المائدۃ : ۳] ’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دِین مکمل کر دیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت کو پورا کر دیا، اور میں نے تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کیا ہے۔‘‘[1] اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے سات راتیں اور آٹھ دِن پہلے یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللّٰهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ﴾ [البقرۃ : ۲۸۱] ’’اور اس دِن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر جان کو اس کا پورا پورا (بدلہ) دیا جائے گا جو اس نے (عمل) کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔ آپ کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی اور ان کی وفات کے بعد خلافت کی ذِمہ داری سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر آئی۔ چنانچہ اسی مکمل دین کی آبیاری کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے صرف چار سال بعدسیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت میں 15ہجری کو عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ جو کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے عمان اور بحرین کے گورنر تھے، ان کے بھائی حکم بن ابی العاص ثقفی کی قیادت میں 12صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک قافلہ ہندوستان کی طرف روانہ ہوا۔ پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں حکیم بن جبلہ عبدی کی قیادت میں 5صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک قافلہ ہندوستان روانہ کیا۔ اس کے بعد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں 38ہجری کے اواخر میں 3صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہندوستان میں تشریف لائے۔ پھر کاتبِ وحی اور خال المومنین کا لقب پانے والے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور ان کے دور میں 44ہجری میں مہلب بن ابوصفرہ کی قیادت میں 4صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہندوستان میں ورُود ہوا۔ اس کے بعد یزید بن معاویہ کے زمانے میں منذر بن الجارود عبدی 60ہجری میں [1] صحیح البخاری: ۴۵۔ صحیح مسلم: ۳۰۱۷.