کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 579
سونے کے آداب 1… عشاء و فجر کی نماز باجماعت پڑھیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ شَہِدَ الْعِشَائَ فِی جَمَاعَۃٍ کَانَ لَہٗ قِیَامُ نِصْفِ لَیْلَۃٍ، وَمَنْ صَلَّی الْعِشَائَ وَالْفَجْرَ فِی جَمَاعَۃٍ کَانَ لَہٗ کَقِیَامِ لَیْلَۃٍ)) [1] ’’جو شخص عشاء کے وقت جماعت میں حاضر ہو اُسے آدھی رات کے قیام کاثواب ملتاہے اورجوشخص عشاء اورفجر(دونوں نمازوں)کے وقت جماعت میں حاضر ہو اُسے ساری رات کے قیام کا اجروثواب ملتاہے۔‘‘ 2… تہجد پڑھنے کی نیت کر کے سوئیں سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَتٰی فِرَاشَہٗ وَہُوَ یَنْوِی أَنْ یَقُومَ فَیُصَلِّیَ مِنَ اللَّیْلِ فَغَلَبَتْہُ عَیْنُہٗ حَتّٰی یُصْبِحَ، کُتِبَ لَہٗ مَا نَوٰی وَکَانَ نَوْمُہٗ صَدَقَۃً عَلَیْہِ مِنْ رَبِّہٖ))[2] ’’جو شخص (رات کو سونے کے لیے) اپنے بستر پر لیٹے اور وہ رات کو اُٹھ کر نماز پڑھنے کی نیت رکھتا ہو لیکن اس پر نیند ایسی غالب آئے کہ صبح کو ہی آنکھ کھلے، تو اس کے لیے اس کی نیت کے مطابق ثواب لکھ دیا جاتا ہے اور اس کی نیند اللہ [1] سنن الترمذی: ۲۲۱۔ صحیح الجامع: ۶۳۴۲. [2] سنن ابن ماجہ: ۱۳۴۴۔ صحیح الجامع: ۵۹۴۱.