کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 577
الْحَمْدُ رَبَّنَا غَیْرَ مَکْفِیٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًی عَنْہُ رَبَّنَا۔[1] ’’تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہماری کفایت کی اور ہمیں سیراب کیا۔ ہم اس کھانے کاحق پوری طرح ادا نہ کر سکے ورنہ ہم اس نعمت کے منکر نہیں ہیں۔ تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، اے ہمارے رب ! اس کا ہم حق ادا نہیں کر سکے او رنہ یہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا۔ (اور یہ اس لیے کہا تاکہ) ا س سے ہم کو بے نیازی کا خیال نہ ہو ، اے ہمارے رب۔‘‘ ٭…سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب دستر خوان اٹھایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْداً کَثِیْراً طَیِّباً مُبَارَکاً فِیْہِ غَیْرَ مَکْفِیٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًی عَنْہُ رَبَّنَا۔[2] ’’تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جوبہت زیادہ پاکیزہ و برکت والی ذات ہے ، ہم اس کھانے کا حق پوری طرح ادا نہ کر سکے ، اور یہ ہمیشہ کے لیے رخصت نہیں کیا گیا (اور یہ اس لیے کہا تاکہ) ا س سے ہم کو بے پرواہی کا خیال نہ ہو ، اے ہمارے پروردگار۔‘‘ ٭…سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو یہ دعا پڑھے: اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَأَبْدِلْنَا خَیْراً مِنْہُ۔ ’’اے اللہ ! ہمارے لیے اس میں برکت ڈال اور ہمیں اس کا نعم البدل دے۔‘‘ اورجب دودھ پئے تو یہ دعا پڑھے: اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَا مِنْہُ۔[3] [1] صحیح البخاری : ۵۴۵۸. [2] صحیح البخاری: ۵۴۵۸. [3] صحیح الجامع: ۳۸۱.