کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 574
گے، رنگا رنگ مشروبات پئیں گے، رنگا رنگ لباس پہنیں گے اور منہ پھلا پھلا کر باتیں کریں گے، یہ میری اُمت کے بد ترین لوگ ہوں گے۔‘‘ 15. کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹا جائے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا أَکَلَ أَحَدُکُمْ طَعَاماً فَلَا یَمْسَحْ یَدَہٗ بِالْمَنَادِیْلِ حَتّٰی یَلْعَقَہَا أَوْ یُلْعِقَہَا فَإِنَّہٗ لَا یَدْرِیْ فِیْ أَیِّ طَعَامِہٖ تَکُوْنُ الْبَرَکَۃُ فَلْیَسْلُتْ أَحَدُکُمُ الصَّحْفَۃَ)) [1] ’’جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ کو رومالوں کے ساتھ صاف نہ کرے جب تک وہ اس کو خود چاٹ نہ لے یا چٹوا نہ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔ لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو برتن صاف کرنا چاہیے۔‘‘ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: کَانَ یَأْکُلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ فَإِذَا فَرَغَ لَعِقَہَا۔[2] ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں (انگوٹھا اور دو اس کے ساتھ والی) کے ساتھ کھاتے اور جب فارغ ہوتے تو ان کو چاٹ لیا کرتے۔‘‘ 16. لقمہ گر جائے تو اسے اُٹھا لیں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: کَانَ إِذَا أَکَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَہُ الثَّـلَاثَ وَقَالَ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَۃُ أَحَدِکُمْ فَلْیُمِطْ عَنْہَا الْأَذٰی وَلْیَأْکُلْہَا وَلَا یَدَعْہَا لِلشَّیْطَانِ [1] صحیح البخاری: ۵۴۵۶۔ صحیح مسلم: ۵۲۶۲. [2] صحیح مسلم: ۵۲۶۶۔ سنن أبی داود: ۳۸۴۸۔ صحیح الجامع: ۳۸۲.