کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 573
14. کھانے سے مکمل پیٹ کو نہ بھرا جائے سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَقْصِرْ مِنْ جُشَائِکَ فَإِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ شِبَعًا فِی الدُّنْیَا أَکْثَرُہُمْ جُوْعاً فِی اْلآخِرَۃِ)) [1] ’’تم اپنے ڈکار کم کرو (یعنی زیادہ مت کھاؤ) کیونکہ جو لوگ دنیا میں زیادہ سیر ہوتے ہیں وہ آخرت میں سب سے زیادہ بھوکے ہوں گے۔‘‘ سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مَـلَأَ آدَمِیٌّ وِعَائً شَرًّا مِنْ بَطْنِہٖ بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أَکْلَاتٌ یُقِمْنَ صُلْبَہٗ فَإِنْ کَانَ لَامَحَالَۃَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِہٖ وَثُلُثٌ لِشَرَابِہٖ وَثُلُثٌ لِنَفَسِہٖ))[2] ’’آدمی اپنے پیٹ سے بڑھ کرکوئی بھی برا برتن نہیں بھر تا۔ آدم کے بیٹے کے لیے اتنے لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھیں ۔ اور اگر ضروری ہی ہو جائے تو پیٹ کے ایک حصے کو کھانے کے لیے اور دوسرے کو پانی کے لیے اورتیسرے کو سانس کے لیے رکھے۔‘‘ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((سَیَکُوْنُ رِجَالٌ مِنْ أَمَّتِیْ یَأْکُلُوْنَ أَلْوَانَ الطَّعَامِ وَیَشْرَبُوْنَ أَلْوَانَ الشَّرَابِ وَیَلْبَسُوْنَ أَلْوَانَ الثِّیَابِ وَیَتَشَدَّقُوْنَ فِی الْکَلَامِ فَأُولٰئِکَ شِرَارُ أُمَّتِیْ)) [3] ’’عنقریب میری اُمت میں ایسے لوگ آئیں گے جو رنگا رنگ کھانے کھائیں [1] صحیح الجامع: ۱۵۷۷،۱۱۷۹، ۱۱۹۹۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۳۴۳. [2] صحیح الجامع: ۵۶۷۴۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : ۲۲۶۵. [3] صحیح الجامع: ۳۶۶۳۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۸۹۱.