کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 572
(کھانے میں) نہیں رکھتے تھے۔‘‘ 13. کھانا دائیں ہاتھ سے کھایا جائے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا أَکَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَأْکُلْ بِیَمِیْنِہٖ وَإِذَا شَرِبَ فَلْیَشْرَبْ بِیَمِیْنِہٖ، وَلِیَأْخُذْ بِیَمِیْنِہٖ وَلْیُعْطِ بِیَمِیْنِہٖ، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ یَأْکُلُ بِشِمَالِہٖ وَیَشْرَبُ بِشِمَالِہٖ، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ یُعْطِیْ بِشِمَالِہٖ))[1] ’’جب تم میں سے کوئی ایک (کھانا) کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پانی پئے تو دائیں ہاتھ سے پیے۔ (اور دائیں ہاتھ سے چیز لے، اور دائیں ہاتھ سے چیز دے، پس بلاشبہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور بائیں سے پیتاہے اور بائیں ہاتھ سے چیزدیتا ہے۔‘‘ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہاتھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((کُلْ بِیَمِیْنِکَ)) ’’دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔‘‘ تواس شخص نے کہا: میں اس سے نہیں کھا سکتا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَااسْتَطَعْتَ، مَا مَنَعَہٗ إِلَّا الْکِبْرُ)) ’’تُو کھا ہی نہ سکے۔ اس کو یہ بات ماننے سے صرف تکبر نے روکا ہے۔‘‘ پھر وہ شخص اس ہاتھ کو (زندگی بھر) اپنے منہ کی طرف نہ اُٹھا سکا۔[2] [1] صحیح مسلم: ۵۲۳۲، ۵۲۳۳۔ صحیح الجامع: ۳۸۳، ۳۸۴ ۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۲۳۶. [2] صحیح مسلم: ۲۰۲۱.