کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 571
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَجْمَعْنَ کَذِبًا وَجُوْعًا)) [1] ’’جھوٹ اور بھوک کو جمع نہ کرو۔‘‘ اس حدیثِ مبارکہ سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ اگر مہمان کو بھوک لگی ہو اور کھانے کی حاجت و ضرورت ہو تو وہ میزبان کے پوچھنے پر اپنی حاجت کو چھپائے نہیں بلکہ صاف طور پر بتلا دے، جھوٹ بول کر بے وجہ تکلف نہ برتے، جھوٹ اور بھوک کو جمع کر کے گناہ کا مرتکب بھی نہ ہو اور خود کو بھی اذِیت میں نہ ڈالے۔ 11. کھانے میں عیب نہ نکالا جائے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : مَاعَابَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم طَعَامًا قَطُّ، إِنِ اشْتَہَاہُ أَکَلَہٗ وَإِنْ کَرِہَہٗ تَرَکَہٗ۔[2] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر چاہت ہوتی تو کھا لیتے اور اگر پسند نہ ہوتی تو نہ کھاتے۔‘‘ 12. کھانے میں بڑوں کو مقدم کیا جائے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: کُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ النَّبِیِّ صلي اللّٰه عليه وسلم لَمْ نَضَعْ أَیْدِیْنَا حَتّٰی یَبْدَأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَیَضَعُ یَدَہٗ۔[3] ’’ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (کھانے میں) حاضر ہوتے توجب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ کھانے میں رکھ کر شروع نہ کر دیتے ہم اپنے ہاتھ [1] صحیح الجامع: ۷۲۳۰ ۔ سنن ابن ماجہ : ۳۲۹۸. [2] صحیح البخاری: ۵۴۹۰۔ صحیح مسلم: ۲۰۶۴. [3] صحیح مسلم: ۵۲۲۷۔ سنن أبی داود: ۳۷۶۶.