کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 570
9. برتن کے درمیان میں سے نہیں کھانا چاہیے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((کُلُوْ ا بِسْمِ اللّٰہِ مِنْ حَوَالَیْہَا وَأَعْفُوْا رَأْسَہَا فَإِنَّ الْبَرَکَۃَ تَأْتِیْھَا مِنْ فَوْقِھَا)) [1] ’’اللہ کا نام لے کر برتن کے اردگرد سے کھاؤ اور اس کی چوٹی کو چھوڑ دو، کیونکہ برکت اوپر سے آتی ہے۔‘‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((کُلُوْا فِی الْقَصْعَۃِ مِنْ جَوَانِبِہَا وَلَا تَأْکُلُوْا مِنْ وَسَطِہَا فَإِنَّ الْبَرَکَۃَ تَنْزِلُ فِیْ وَسَطِہَا)) [2] ’’تم پیالے کے اطراف(کناروں) سے کھاؤاور اس کے درمیان سے نہ کھاؤ، بلاشبہ برکت پیالے کے درمیان میں اُترتی ہے۔‘‘ 10. کھاناکھلاتے وقت تکلف نہ کیا جائے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : نَہَانَا عَنِ التَّکَلُّفِ لِلضَّیْفِ۔[3] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مہمان کے لیے تکلف کرنے سے منع فرمایا۔‘‘ اور سلمان رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَتَکَلَّفَنَّ أَحَدٌ لِضَیْفِہٖ مَالَا یَقْدِرُ عَلَیْہِ)) [4] ’’کوئی بھی شخص اپنے مہمان کے لیے اپنی قدرت سے بڑھ کر تکلف بالکل نہ کرے۔‘‘ [1] صحیح الجامع: ۴۴۹۹۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۲۰۳۰. [2] صحیح الجامع: ۴۵۰۲. [3] صحیح الجامع:۶۸۷۱۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۲۳۹۲. [4] سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۲۴۴۰.