کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 563
میں آیا تھا۔ یہ سن کر اللہ نے فرمایا: وہ ایسے ہم نشین ہیں کہ جن میں بیٹھنے والا بھی محروم و نامراد نہیں رہتا (یعنی میں نے اسے بھی بخش دِیا)۔‘‘ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَیُّمَا قَوْمٍ جَلَسُوا فَأَطَالُوا، ثُمَّ تَفَرَّقُوا قَبْلَ أَنْ یَذْکُرُوا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَیُصَلُّوا عَلٰی نَبِیِّہِمْ صلي اللّٰه عليه وسلم ، إِلَّا کَانَتْ عَلَیْہِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تِرَۃً، إِنْ شَائَ عَذَّبَہُمْ، وَإِنْ شَائَ غَفَرَ لَہُمْ)) [1] ’’جو بھی لوگ مجلس لگاتے ہیں اور بہت دیر تک بیٹھے رہتے ہیں، پھر وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیے بغیر اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے بغیر ہی جدا ہو جاتے ہیں، تو وہ مجلس روزِقیامت ان پر وبال بن جائے گی، اگر اللہ چاہے گا تو انہیں عذاب میں مبتلا کر دے گا اور اگر چاہے گا تو انہیں معاف فرما دے گا۔‘‘ 29 ہم مجلس لوگوں کے لیے دعا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مجلس سے اپنے صحابہ کے لیے ان کلمات کے ساتھ دعا کیے بغیر اُٹھ گئے ہوں: اَللّٰہُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْیَتِکَ مَا یَحُولُ بَیْنَنَا وَبَیْنَ مَعَاصِیکَ، وَمِنْ طَاعَتِکَ مَا تُبَلِّغُنَا بِہٖ جَنَّتَکَ، وَمِنَ الیَقِینِ مَا تُہَوِّنُ بِہٖ عَلَیْنَا مُصِیبَاتِ الدُّنْیَا، وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْیَیْتَنَا، وَاجْعَلْہُ الوَارِثَ مِنَّا، وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلٰی مَنْ ظَلَمَنَا، وَانْصُرْنَا عَلٰی مَنْ عَادَانَا، وَلَا تَجْعَلْ مُصِیبَتَنَا فِی دِینِنَا، وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْیَا أَکْبَرَ ہَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا، وَلَا تُسَلِّطْ عَلَیْنَا مَنْ لَا یَرْحَمُنَا۔[2] [1] صحیح الجامع: ۲۷۳۸. [2] سنن الترمذی: ۳۵۰۲۔ صحیح الجامع: ۱۲۶۸.