کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 561
((إِنَّ لِلّٰہِ مَلاَئِکَۃً یَطُوفُونَ فِی الطُّرُقِ یَلْتَمِسُونَ أَہْلَ الذِّکْرِ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا یَذْکُرُونَ اللّٰہَ تَنَادَوْا: ہَلُمُّوا إِلٰی حَاجَتِکُمْ، قَالَ: فَیَحُفُّونَہُمْ بِأَجْنِحَتِہِمْ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا، قَالَ: فَیَسْأَلُہُمْ رَبُّہُمْ، وَہُوَ أَعْلَمُ مِنْہُمْ، مَا یَقُولُ عِبَادِی؟ قَالُوا: یَقُولُونَ: یُسَبِّحُونَکَ وَیُکَبِّرُونَکَ وَیَحْمَدُونَکَ وَیُمَجِّدُونَکَ، قَالَ: فَیَقُولُ: ہَلْ رَأَوْنِی؟ قَالَ: فَیَقُولُونَ: لاَ وَاللّٰہِ مَا رَأَوْکَ؟ قَالَ: فَیَقُولُ: وَکَیْفَ لَوْ رَأَوْنِی؟ قَالَ: یَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْکَ کَانُوا أَشَدَّ لَکَ عِبَادَۃً، وَأَشَدَّ لَکَ تَمْجِیدًا وَتَحْمِیدًا، وَأَکْثَرَ لَکَ تَسْبِیحًا، قَالَ: یَقُولُ: فَمَا یَسْأَلُونِی؟ قَالَ: یَسْأَلُونَکَ الجَنَّۃَ، قَالَ: یَقُولُ: وَہَلْ رَأَوْہَا؟ قَالَ: یَقُولُونَ: لاَ وَاللّٰہِ یَا رَبِّ مَا رَأَوْہَا، قَالَ: یَقُولُ: فَکَیْفَ لَوْ أَنَّہُمْ رَأَوْہَا؟ قَالَ: یَقُولُونَ: لَوْ أَنَّہُمْ رَأَوْہَا کَانُوا أَشَدَّ عَلَیْہَا حِرْصًا، وَأَشَدَّ لَہَا طَلَبًا، وَأَعْظَمَ فِیہَا رَغْبَۃً، قَالَ: فَمِمَّ یَتَعَوَّذُونَ؟ قَالَ: یَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ، قَالَ: یَقُولُ: وَہَلْ رَأَوْہَا؟ قَالَ: یَقُولُونَ: لاَ وَاللّٰہِ یَا رَبِّ مَا رَأَوْہَا، قَالَ: یَقُولُ: فَکَیْفَ لَوْ رَأَوْہَا؟ قَالَ: یَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْہَا کَانُوا أَشَدَّ مِنْہَا فِرَارًا، وَأَشَدَّ لَہَا مَخَافَۃً، قَالَ: فَیَقُولُ: فَأُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ غَفَرْتُ لَہُمْ، قَالَ: یَقُولُ مَلَکٌ مِنَ المَلاَئِکَۃِ: فِیہِمْ فُلاَنٌ لَیْسَ مِنْہُمْ، إِنَّمَا جَائَ لِحَاجَۃٍ، قَالَ: ہُمُ الجُلَسَائُ لاَ یَشْقٰی بِہِمْ جَلِیسُہُمْ))۔ [1] ’’بلاشبہ اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں چکر لگاتے ہیں (اور) ذِکر کرنے والوں کو تلاش کرتے ہیں، جب انہیں ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو اللہ کا ذِکر کر رہے ہوں، تو وہ ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں: آ جاؤ، تمہارا کام ہو گیا [1] صحیح البخاری: ۶۴۰۸۔ صحیح مسلم: ۶۷۸۰.