کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 558
21. باعثِ غضب انداز میں نہ بیٹھیں سیدنا شرید بن سوید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: مَرَّ بِی رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم وَأَنَا جَالِسٌ ہٰکَذَا، وَقَدْ وَضَعْتُ یَدِیَ الْیُسْرٰی خَلْفَ ظَہْرِی وَاتَّکَأْتُ عَلٰی أَلْیَۃِ یَدِی، فَقَالَ: ((أَتَقْعُدُ قِعْدَۃَ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ؟))[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا، میں نے بایاں ہاتھ کمر کے پیچھے رکھا تھا اور انگوٹھے کی جگہ پر دباؤ ڈالا ہوا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہو جن پر غضب کیا گیا؟‘‘ 22. بڑے کو بات کرنے کا موقع دینا چاہیے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ سَہْلٍ وَحُوَیِّصَۃَ وَمُحَیِّصَۃَ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَی النَّبِیِّ صلي اللّٰه عليه وسلم ، فَتَکَلَّمُوا فِی أَمْرِ صَاحِبِہِمْ، فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ، وَکَانَ أَصْغَرَ القَوْمِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم : ((کَبِّرِ الکُبْرَ)) [2] ’’عبدالرحمان بن سہل اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیٹے حویصہ اور محیصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اپنے ساتھی کے معاملے میں بات کرنے لگے تو عبدالرحمان نے گفتگو شروع کی، جو کہ ان لوگوں میں سب سے چھوٹے تھے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دو۔‘‘ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((الْبَرَکَۃُ مَعَ أَکَابِرِکُمْ)) [3] [1] سنن أبی داود: ۴۸۴۸. [2] صحیح البخاری: ۶۱۴۲. [3] صحیح ابن حبان: ۵۵۹۔ صحیح الجامع: ۲۸۸۴۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۷۷۸.