کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 557
((لَوْ أَعْلَمُ أَنَّکَ تَنْظُرُ، لَطَعَنْتُ بِہٖ فِی عَیْنِکَ، إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ البَصَرِ)) [1] ’’اگر مجھے علم ہوتا کہ تم دیکھ رہے ہو تو میں تمہاری آنکھ میں یہ (کنگھی) چبھو دیتا، اس دیکھنے کی وجہ سے ہی تو اجازت کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔‘‘ 19. مجلس کے لوگوں سے مصافحہ کریں ویسے تو مجلس میں شرکت کے وقت عمومی سلام ہی کافی ہوتا ہے لیکن اگر لوگوں کی تعداد کم ہو، یا کوئی اہم بات نہ ہو رہی ہو اور مصافحہ کرنا ممکن ہو تو پھر فضیلت حاصل کرنے کے لیے شرکائے مجلس سے ہاتھ ملا لینا چاہیے۔ مصافحے کی فضیلت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ: ((مَا مِنْ مُسْلِمَینِ یَلْتَقِیَانِ فَیَتَصَافَحَانِ إِلَّا غُفِرَ لَھُمَا قَبْلَ أَنْ یَتَفَرَّقَا)) [2] ’’جو بھی دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کو جدا ہونے سے پہلے پہلے بخش دیا جاتا ہے۔‘‘ 20. آدمی کے گھر میں اس کی نشست پر نہ بیٹھیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یُؤَمُّ الرَّجُلُ فِی سُلْطَانِہٖ وَلَا یُجْلَسُ عَلٰی تَکْرِمَتِہٖ فِی بَیْتِہٖ إِلَّا بِإِذْنِہٖ))[3] ’’آدمی کی سرپرستی والی جگہ پر اس کی امامت نہ کروائی جائے اور نہ ہی اس کے گھر میں اس کی عزت والی نشست پر بیٹھا جائے، مگر اس کی اجازت کے ساتھ۔‘‘ [1] صحیح البخاری: ۶۲۴۱۔صحیح مسلم: ۲۱۵۶. [2] صحیح الجامع: ۵۷۷۷. [3] سنن الترمذی: ۲۷۷۲۔صحیح الجامع: ۷۵۸۱.