کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 556
((لَایُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِہٖ ثُمَّ یَجْلِسُ فِیْہِ وَلٰکِنْ تَفَسَّحُوْا وَتَوَسَّعُوْا)) [1] ’’کوئی شخص کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ (اسے اٹھاکرخود)پھراس کی جگہ پربیٹھ جائے لیکن (اگرجگہ تنگ ہو تو)کھلے کھلے ہوجاؤ اور کشادگی اختیارکرلو۔‘‘ 16. ریشمی مسندوں پر بیٹھنے سے احتراز سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: نَہَانَا النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم أَنْ نَشْرَبَ فِی آنِیَۃِ الذَّہَبِ وَالفِضَّۃِ، وَأَنْ نَأْکُلَ فِیہَا، وَعَنْ لُبْسِ الحَرِیرِ وَالدِّیبَاجِ، وَأَنْ نَجْلِسَ عَلَیْہِ۔[2] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا کہ ہم سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھائیں اور پئیں، اور باریک و موٹا ریشم پہننے اور اس پر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا۔‘‘ 17. تین بار اجازت طلب کریں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْإِسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِنْ أُذِنَ لَکَ، وَإِلَّا فَارْجِعْ)) [3] ’’تین مرتبہ اجازت طلب کرنی چاہیے، اگر تو تمہیں اجازت دے دی جائے (تو ٹھیک ہے) ورنہ واپس لوٹ جاؤ۔‘‘ 18. تانکا جھانکی کی ممانعت سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دروازے میں ایک سوراخ سے اندر جھانکا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک کنگھی تھی جس سے آپ سرمبارک کھجلا رہے تھے، آپ نے جب اسے دیکھا تو فرمایا: [1] صحیح البخاری:۶۲۶۹۔ صحیح مسلم:۲۸۲۷. [2] صحیح البخاری: ۵۸۳۷. [3] صحیح مسلم: ۲۱۵۳.