کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 554
کہیں کوئی سُن ہی نہ لے، تودوسرے شخص کوسمجھ جاناچاہیے کہ یہ اس کی رازکی بات ہے جو وہ اس کے پاس بہ طورِامانت بیان کررہاہے، لہٰذااسے چاہیے کہ وہ بات کرنے والے کی وضاحت کے بغیرہی اس بات کوامانت سمجھے اورکسی کے پاس بیان نہ کرے۔ 12. انکساری کے انداز میں بیٹھنا چاہیے سیدنا ابواُمامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَجْلِسُ الْقُرْفُصَائَ۔[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرفصاء کے انداز میں بیٹھا کرتے تھے (یعنی آپ کے گھٹنے سینے سے ملے ہوتے تھے اور ہاتھ ان کے گرد لپٹے ہوتے تھے)۔‘‘ بیٹھنے کی یہ کیفیت نہایت عاجزی اور انکساری کی ہے۔ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَجْلِسُ عَلَی الْأَرْضِ، وَیَأْکُلُ عَلَی الْأَرْضِ وَیَعْتَقِلُ الشَّاۃَ، وَیُجِیبُ دَعْوَۃَ الْمَمْلُوکِ عَلٰی خُبْزِ الشَّعِیرِ۔[2] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر ہی بیٹھ جایا کرتے تھے، زمین پر بیٹھ کر ہی کھا لیا کرتے، بکری کا دودھ دوہ لیتے اور غلام کی طرف سے جو کی روٹی کی بھی دعوت قبول کر لیا کرتے تھے۔‘‘ اس حدیثِ مبارکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں جو عاجزی و انکساری کی دلیل ہیں۔ 13. اپنی آمد پر لوگوں کا کھڑا ہونا پسند نہ کریں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] صحیح الجامع: ۴۹۱۴ ۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۲۱۲۴. [2] المعجم الکبیر للطبرانی: ۱۲۴۹۴۔ صحیح الجامع: ۴۹۱۵.