کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 550
((خَیرُ النَّاسِ أَحْسَنُہُمْ خُلُقًا)) [1] ’’لوگوں میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اخلاق کے لحاظ سے ان سب سے اچھا ہے۔‘‘ لہٰذا جب کوئی آدمی مجلس میں بیٹھنے کے لیے آئے تو تنگ دِلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کو بھی اس مجلس سے فائدہ پہنچانے کی سوچ رکھنی چاہیے اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے مجلس میں شریک کرنا چاہیے اور اسے جگہ دینی چاہیے۔ نیز اگر دورانِ مجلس کسی سے کوئی تکلیف پہنچے مثلاً کسی کی کہنی لگ جائے، کسی کا پاؤں لگ جائے، یا کوئی تکلیف دہ بات کر دے تو جواب میں بداخلاقی یا بدزبانی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ حسنِ اخلاق کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے درگزر کرنا چاہیے۔ 6. پہلے بیٹھنے والا اپنی جگہ کا حق دار وہب بن حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِہٖ ثُمَّ رَجَعَ إِلَیہِ فَہُوَ أَحَقُّ بِہٖ))[2] ’’جب ایک آدمی اپنے بیٹھنے کی جگہ سے اُٹھے، پھر اسی جگہ پر واپس آ جائے تو وہی اس (جگہ پر بیٹھنے) کا زیادہ حق رکھتا ہے۔‘‘ اسی طرح وہب بن حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلرَّجُلُ أَحَقُّ بِمَجْلِسِہٖ وَإِنْ خَرَجَ لِحَاجَتِہٖ ثُمَّ عَادَ فَہُوَ أَحَقُّ بِمَجْلِسِہٖ))[3] ’’آدمی اپنے بیٹھنے کی جگہ کا زیادہ حق دار ہوتا ہے اور اگر وہ کسی کام کی وجہ سے (مجلس سے) نکل جائے، پھر واپس آئے تو وہی اپنی جگہ پر بیٹھنے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔‘‘ [1] صحیح الجامع: ۳۲۸۷ ۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۸۳۷. [2] صحیح الجامع: ۴۲۲. [3] صحیح الجامع: ۳۵۴۴.