کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 549
((إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمْ إِلَی الْقَوْمِ فَأُوسِعَ لَہٗ فَلْیَجْلِسْ، فَإِنَّمَا ہِیَ کَرَامَۃٌ مِنَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ أَکْرَمَہٗ بِہَا أَخُوہُ الْمُسْلِمُ، فَإِنْ لَمْ یُوَسَّعْ لَہٗ فَلْیَنْظُرْ أَوْسَعَہَا مَکَانًا فَلْیَجْلِسْ فِیہِ)) [1] ’’جب تم میں سے کوئی شخص کسی قوم کے پاس آئے اور اس کے لیے مجلس کشادہ کر دی جائے تو اسے چاہیے کہ بیٹھ جائے، یقینا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعزاز ہی ہے جس کے ذریعے اس کا مسلمان بھائی اسے عزت بخشتا ہے، لیکن اگر اس کے لیے مجلس کشادہ نہ کی جائے تو اسے کہیں اس سے زیادہ کھلی جگہ دیکھ کر وہاں بیٹھ جانا چاہیے۔‘‘ 4. بہترین مجلس کون سی ہے؟ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((خَیرُ الْمَجَالِسِ أَوسَعُہَا)) [2] ’’مجالس میں سے بہترین مجلس وہ ہے جو سب سے زیادہ کشادہ ہو۔‘‘ 5. مسلمان بھائی کو جگہ دینی چاہیے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((خَیرُ النَّاسِ أَنْفَعُہُمْ لِلنَّاسِ)) [3] ’’لوگوں میں سے بہترین شخص وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع رساں ہو۔‘‘ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] صحیح الجامع: ۵۱۷ ۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ:۱۳۲۱. [2] صحیح الجامع: ۳۲۸۵ ۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۸۳۲. [3] صحیح الجامع: ۳۲۸۹ ۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۴۲۶.