کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 547
تکبر کرنے والے ہوتے ہیں، نہ تو وہ خود اُنس کرتے ہیں اور نہ ہی ان سے اُنس کیا جاتا ہے، وہ رات کو لکڑیوں کی طرح پڑے رہتے ہیں اور دِن کو شور و غل کرنے والے بنے رہتے ہیں۔‘‘ (8)… سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیَنْتَہِیَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِہِمُ الْجَمَاعَاتِ، أَوْ لَیَخْتِمَنَّ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوبِہِمْ، ثُمَّ لَیَکُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِینَ)) [1] ’’لوگوں کو جماعت چھوڑنے سے لازماً باز آ جانا چاہیے، ورنہ اللہ تعالیٰ ضرور ان کے دِلوں پر مہر لگا دے گا، پھر یقینا وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ (9)… سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ فَلَمْ یَأْتِہٖ، فَلَا صَلَاۃَ لَہٗ، إِلَّا مِنْ عُذْرٍ)) [2] ’’جو شخص اذان سنے لیکن مسجد میں نہ آئے تو اس کی نماز نہیں ہوتی، سوائے اس کے کہ کوئی عذر ہو۔‘‘ (10)… سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْیَتِی فَیَجْمَعُوا حُزَمًا مِنْ حَطَبٍ، ثُمَّ آتِیَ قَوْمًا یُصَلُّونَ فِی بُیُوتِہِمْ لَیْسَتْ بِہِمْ عِلَّۃٌ فَأُحَرِّقَہَا عَلَیْہِمْ)) [3] ’’یقینا میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنے جوانوں کو حکم دوں، وہ لکڑیوں کا ایک گٹھا جمع کر لائیں، پھر میں ان لوگوں کے پاس جاؤں جو اپنے گھروں میں ہی نماز پڑھتے ہیں اور ان کا کوئی عذر بھی نہیں ہوتا، تو میں ان کے گھروں کو جلا دوں۔‘‘ [1] سنن ابن ماجہ: ۷۹۴. [2] سنن ابن ماجہ: ۷۹۳. [3] سنن أبی داود: ۵۴۹.