کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 545
یَا رَسُولَ اللّٰہِ، إِنِّی رَجُلٌ ضَرِیرُ الْبَصَرِ شَاسِعُ الدَّارِ، وَلِی قَائِدٌ لَا یُلَائِمُنِی فَہَلْ لِی رُخْصَۃٌ أَنْ أُصَلِّیَ فِی بَیْتِی؟، قَالَ: ((ہَلْ تَسْمَعُ النِّدَائَ؟))، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((لَا أَجِدُ لَکَ رُخْصَۃً)) [1] ’’اے اللہ کے رسول! میں نابینا آدمی ہوں، گھر دُور ہے اور میرا قائد (ہاتھ پکڑ کر لانے والا) میری مدد نہیں کرتا، تو کیا میرے لیے رخصت ہے کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تیرے لیے رخصت نہیں پاتا۔‘‘ (6)… سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مَنْ سَرَّہٗ أَنْ یَلْقَی اللّٰہَ غَدًا مُسْلِمًا، فَلْیُحَافِظْ عَلٰی ہٰؤُلَائِ الصَّلَوَاتِ حَیْثُ یُنَادٰی بِہِنَّ، فَإِنَّ اللّٰہَ شَرَعَ لِنَبِیِّکُمْ صلي اللّٰه عليه وسلم سُنَنَ الْہُدٰی، وَإِنَّہُنَّ مِنْ سُنَنِ الْہُدٰی، وَلَوْ أَنَّکُمْ صَلَّیْتُمْ فِی بُیُوتِکُمْ کَمَا یُصَلِّی ہٰذَا الْمُتَخَلِّفُ فِی بَیْتِہٖ لَتَرَکْتُمْ سُنَّۃَ نَبِیِّکُمْ، وَلَوْ تَرَکْتُمْ سُنَّۃَ نَبِیِّکُمْ لَضَلَلْتُمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ یَتَطَہَّرُ فَیُحْسِنُ الطُّہُورَ، ثُمَّ یَعْمِدُ إِلٰی مَسْجِدٍ مِنْ ہٰذِہِ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا کَتَبَ اللّٰہُ لَہٗ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوہَا حَسَنَۃً، وَیَرْفَعُہٗ بِہَا دَرَجَۃً، وَیَحُطُّ عَنْہُ بِہَا سَیِّئَۃً، وَلَقَدْ رَأَیْتُنَا وَمَا یَتَخَلَّفُ عَنْہَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ کَانَ الرَّجُلُ یُؤْتٰی بِہٖ یُہَادٰی بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ حَتّٰی یُقَامَ فِی الصَّفِّ۔[2] ’’جو یہ چاہے کہ کل (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ سے مسلمان کی حیثیت سے ملے تو اسے ان نمازوں کا اہتمام کرنا چاہیے، جہاں سے بھی اسے ان نمازوں [1] سنن أبی داود: ۵۵۲۔ سنن ابن ماجہ: ۷۹۲. [2] صحیح مسلم: ۶۵۴.