کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 543
وَتُطَیَّبَ۔[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور انہیں پاکیزہ، صاف ستھرا اور معطر رکھا جائے۔‘‘ مسجد کی صفائی ستھرائی کی فضیلت اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہوتی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: أَنَّ امْرَأَۃً سَوْدَائَ کَانَ یَقُمُّ المَسْجِدَ فَمَاتَتْ، فَسَأَلَ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم عَنْہَا، فَقَالُوا: مَاتَتْ، قَالَ: ((أَفَلاَ کُنْتُمْ آذَنْتُمُونِی بِہٖ؟ دُلُّونِی عَلٰی قَبْرِہَا)) فَأَتٰی قَبْرَہَا فَصَلّٰی عَلَیْہَا۔[2] ’’ایک سیاہ فام عورت مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی، وہ فوت ہو گئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتلایا کہ وہ فوت ہو گئی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے بتلایا کیوں نہیں؟ مجھے اس کی قبر دِکھاؤ۔ پھر آپ اس کی قبر پر تشریف لائے اور اس کی نمازِجنازہ ادا فرمائی۔‘‘ 25. جماعت کا اہتمام اور مسجدکی آباد کاری (1)… سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ صَلَّی الْعِشَائَ فِی جَمَاعَۃٍ کَانَ کَقِیَامِ نِصْفِ لَیْلَۃٍ، وَمَنْ صَلَّی الْعِشَائَ وَالْفَجْرَ فِی جَمَاعَۃٍ کَانَ کَقِیَامِ لَیْلَۃٍ)) [3] ’’جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی، اسے آدھی رات قیام کرنے کا ثواب ملتا ہے اور جس نے عشاء اور فجر کی نمازیں باجماعت ادا کیں، اسے ساری رات کے قیام کا اجر ملتا ہے۔‘‘ [1] سنن أبی داود: ۴۵۵۔سنن الترمذی: ۵۹۴۔ سنن ابن ماجہ: ۷۵۸. [2] صحیح البخاری: ۴۵۸۔ صحیح مسلم: ۹۵۶. [3] سنن أبی داود: ۵۵۵۔ سنن الترمذی: ۲۲۱.