کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 541
یَنْصَرِفَ أَوْ یُحْدِثَ)) [1] ’’بندہ اس وقت تک مسلسل نماز میں ہی (شمار) ہوتا ہے جب تک وہ اپنی نماز والی جگہ پر (بیٹھ کر اگلی) نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے، اور فرشتے کہتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ حتیٰ کہ وہ اُٹھ کر چلا جائے یا وضو ٹوٹ ہو جائے۔‘‘ 21. مسجد میں اونچی آواز سے اجتناب کریں سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: کُنْتُ قَائِمًا فِی المَسْجِدِ فَحَصَبَنِی رَجُلٌ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ، فَقَالَ: اذْہَبْ فَأْتِنِی بِہٰذَیْنِ، فَجِئْتُہٗ بِہِمَا، قَالَ: مَنْ أَنْتُمَا ۔ أَوْ مِنْ أَیْنَ أَنْتُمَا؟ ۔ قَالَا: مِنْ أَہْلِ الطَّائِفِ، قَالَ: لَوْ کُنْتُمَا مِنْ أَہْلِ البَلَدِ لَأَوْجَعْتُکُمَا، تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَکُمَا فِی مَسْجِدِ رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ۔[2] ’’میں مسجد نبوی میں کھڑا تھا کہ کسی نے مجھے کنکری ماری۔ میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا: جاؤ اور ان دو آدمیوں کو لے کر آؤ۔ میں انہیں بلا کر لایا تو آپ نے ان سے دریافت کیا: تم کون ہو؟ یا فرمایا کہ تمہارا کہاں سے تعلق ہے؟ تو انہوں نے کہا: طائف والوں سے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم مدینہ کے باشندے ہوتے تو میں تمہیں ضرور سزا دیتا۔ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کر رہے ہو۔‘‘ 22. گم شدہ چیز کے اعلان کی ممانعت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] صحیح البخاری: ۶۴۷۔ صحیح مسلم: ۶۴۹. [2] صحیح البخاری: ۴۷۰.