کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 538
((لَا تُصَلِّ إِلَّا إِلٰی سُتْرَۃٍ)) [1] ’’تم سترے کی طرف ہی نماز پڑھا کرو۔‘‘ یعنی نماز پڑھنے سے پہلے اس بات کا خصوصی اہتمام کیا کرو کہ اپنے آگے سترہ رکھ لو۔ اگر نماز باجماعت ادا کی جا رہی ہو تو امام کے آگے پڑا ہوا سترہ ہی کافی ہوتا ہے، وہی تمام نمازیوں کے لیے بھی سترہ بن جاتا ہے لیکن اگر آدمی تنہا نماز پڑھے تو پھر اپنے آگے سترہ رکھ لینا چاہیے۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ إِلٰی سُتْرَۃٍ فَلْیَدْنُ مِنْہَا لَا یَقْطَعُ الشَّیْطَانُ عَلَیْہِ صَلَاتَہٗ))[2] ’’جب تم میں سے کوئی کسی سُترے کی طرف نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ اس کے قریب کھڑا ہو، کہیں شیطان اس پر اس کی نماز نہ کاٹ دے۔‘‘ 14. مسجد میں دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھیں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لاَ یَغْتَسِلُ رَجُلٌ یَوْمَ الجُمُعَۃِ وَیَتَطَہَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُہْرٍ وَیَدَّہِنُ مِنْ دُہْنِہٖ أَوْ یَمَسُّ مِنْ طِیبِ بَیْتِہٖ، ثُمَّ یَخْرُجُ فَلاَ یُفَرِّقُ بَیْنَ اثْنَیْنِ، ثُمَّ یُصَلِّی مَا کُتِبَ لَہٗ، ثُمَّ یُنْصِتُ إِذَا تَکَلَّمَ الإِمَامُ، إِلَّا غُفِرَ لَہٗ مَا بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الجُمُعَۃِ الأُخْرٰی)) [3] ’’جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، نہایت اچھے طریقے سے پاکیزہ ہوجائے، تیل لگائے یا گھر کی خوشبو لگائے، پھر جمعہ کی نماز کے لیے نکلے اور دو لوگوں کے درمیان تفریق نہ ڈالے(یعنی دوآدمیوں کے درمیان میں گھُس کرنہ بیٹھے)، اس [1] صحیح ابن خزیمۃ: ۸۰۰۔ مصنف عبد الرزاق: ۲۳۰۵. [2] سنن أبی داود: ۶۹۵. [3] صحیح البخاری: ۸۸۳.