کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 535
فَأَتِمُّوا)) [1] ’’جب تم اقامت سنو تو نماز کے لیے سکینت اور وقار کے ساتھ آؤ اور جلدبازی کا مظاہرہ نہ کرو، پھر جو نماز تمہیں (باجماعت) مل جائے وہ پڑھ لو اور جو تم سے رہ جائے اسے پورا کر لو۔‘‘ 8. مسجد میں جاتے وقت تشبیک سے احتراز سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُکُمْ فَأَحْسَنَ وُضُوئَ ہُ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَی المَسْجِدِ فَلَا یُشَبِّکَنَّ بَیْنَ أَصَابِعِہِ، فَإِنَّہُ فِی صَلَاۃٍ)) [2] ’’جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد کا ارادہ کر کے نکلے تو اپنی اُنگلیوں کے درمیان تشبیک نہ دے، کیونکہ وہ (اس وقت بھی) نماز میں ہی ہوتا ہے۔‘‘ تشبیک سے مراد ہے کہ ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرنا۔ 9. مسجد میں اسلحہ لے کر آنے سے احتراز سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا مَرَّ أَحَدُکُمْ فِی مَسْجِدِنَا أَوْ فِی سُوقِنَا وَمَعَہٗ نَبْلٌ، فَلْیُمْسِکْ عَلٰی نِصَالِہَا بِکَفِّہٖ أَنْ یُصِیبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِینَ مِنْہَا بِشَیْئٍ)) [3] ’’جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد یا ہمارے بازار میں سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہو تو اسے چاہیے کہ اس کے پھل (یعنی تیر کے اگلے حصے) پر اپنا ہاتھ رکھ [1] صحیح البخاری: ۶۳۶، ۹۰۸۔ صحیح مسلم: ۶۰۲. [2] سنن الترمذی: ۳۸۶۔ سنن أبی داود: ۵۶۲. [3] صحیح البخاری: ۴۵۲۔ صحیح مسلم: ۲۶۱۵.