کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 533
اور معدان بن ابی طلحہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں لوگوں کو خطبہ دیا اور آخر میں فرمایا: إِنَّکُمْ أَیُّہَا النَّاسُ تَأْکُلُونَ شَجَرَتَیْنِ لَا أَرَاہُمَا إِلَّا خَبِیثَتَیْنِ، ہٰذَا الْبَصَلَ وَالثُّومَ لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ، إِذَا وَجَدَ رِیحَہُمَا مِنَ الرَّجُلِ فِی الْمَسْجِدِ، أَمَرَ بِہٖ فَأُخْرِجَ إِلَی الْبَقِیعِ، فَمَنْ أَکَلَہُمَا فَلْیُمِتْہُمَا طَبْخًا۔[1] ’’اے لوگو! یقینا تم دو درخت کھاتے ہو، جنہیں میں ناپاک سمجھتا ہوں، یہ پیاز اورلہسن ہے۔ یقینا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نے مسجد میں ایک آدمی سے ان دو چیزوں کی بُو محسوس کی تو آپ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے بقیع کی جانب نکال دیا گیا، لہٰذا جس نے یہ دو کھانے ہوں اسے چاہیے کہ انہیں پکا کر بُو ختم کر لے۔ 5. گھر سے نکلتے وقت دعا اور نماز کی نیت ہو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مِنْ بَیْتِہٖ فَقَالَ بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، قَالَ: یُقَالُ حِینَئِذٍ: ہُدِیتَ وَکُفِیتَ وَوُقِیتَ، فَتَتَنَحّٰی لَہُ الشَّیَاطِینُ، فَیَقُولُ لَہٗ شَیْطَانٌ آخَرُ: کَیْفَ لَکَ بِرَجُلٍ قَدْ ہُدِیَ وَکُفِیَ وَوُقِیَ؟))[2] ’’جب آدمی اپنے گھر سے نکلتا ہے اور کہتا ہے: بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ ’’اللہ کے نام کے ساتھ، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، کسی شر اور برائی سے بچنا اور کسی نیکی یا خیر کا حاصل ہونا اللہ کی مدد کے [1] صحیح مسلم: ۵۶۷. [2] سنن أبی داود: ۵۰۹۵۔سنن الترمذی: ۳۴۲۶.