کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 532
’’جو شخص جس نیت سے مسجد میں آیا ہو، اس کا وہی نصیبہ ہے۔‘‘ لہٰذا ہر شخص کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ وہ کس نیت اور ارادے سے مسجد میں جاتا ہے، اگر تو فقط رضائے الٰہی کا حصول مقصود ہو تو یقینا اللہ کی رضامندی حاصل ہو گی لیکن اگر دِکھلاوا اور نمائش مطلوب ہو تو پھر یہی کچھ ملے گا اور اجر و ثواب سے محروم ہی رہے گا۔ 3. زیب وزینت کا اہتمام فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ ﴾ [ الأعراف: ۳۱] ’’اے اولادِ آدم! تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنی زینت پکڑ لیا کرو۔‘‘ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ جَمِیلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ)) [1] ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب صورت ہے، خوب صورتی کو پسند کرتا ہے۔‘‘ 4. بدبودار اور ناپسندیدہ چیز سے پرہیز سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَکَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا، فَلْیَعْتَزِلْنَا ۔ أَوْ قَالَ: فَلْیَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا، وَلْیَقْعُدْ فِی بَیْتِہٖ، فَإِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَتَأَذّٰی مِمَّا یَتَأَذّٰی مِنْہُ بَنُو آدَمَ)) [2] ’’جس نے لہسن یا پیاز کھایا ہو اسے چاہیے کہ ہم سے الگ ہی رہے۔ (یا فرمایا کہ) اسے ہماری مسجد سے الگ ہی رہنا چاہیے اور اپنے گھر میں ہی بیٹھ رہنا چاہیے، کیونکہ فرشتے بھی اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے بنوآدم کو تکلیف ہوتی ہے۔‘‘ [1] صحیح مسلم: ۹۱. [2] صحیح البخاری: ۸۵۵۔ صحیح مسلم: ۵۶۴.