کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 530
مَرَّ عُمَرُ فِی المَسْجِدِ وَحَسَّانُ یُنْشِدُ فَقَالَ: کُنْتُ أُنْشِدُ فِیہِ، وَفِیہِ مَنْ ہُوَ خَیْرٌ مِنْکَ، ثُمَّ التَفَتَ إِلٰی أَبِی ہُرَیْرَۃَ، فَقَالَ: أَنْشُدُکَ بِاللّٰہِ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَقُولُ: ((أَجِبْ عَنِّی، اللّٰہُمَّ أَیِّدْہُ بِرُوحِ القُدُسِ؟)) قَالَ: نَعَمْ۔[1] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ مسجد میں سے گزرے تو حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اشعار پڑھ رہے تھے۔ (انہوں نے اس پر اظہارِ ناپسندیدگی کیا) تو حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو اس وقت یہاں شعر پڑھ رہا تھا جب آپ سے بہتر ستودہ صفات یہاں تشریف فرما تھے۔ پھر وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں تم سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ’’اے حسان! میری طرف سے کفارِ مکہ (کی گستاخانہ شاعری کا) جواب دو۔ اے اللہ! رُوح القدس کے ذریعے اس کی مدد فرما۔‘‘ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہاں (میں نے سنا تھا)۔ 8. مسجدبطورِ مہمان خانہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ ہم نوجوان اور ہم عمر تھے۔ ہم نے آپ کے ہاں بیس دِن تک قیام کیا۔ پھر آپ کو خیال آیا کہ ہمیں اپنے اہلِ خانہ یاد آ رہے ہیں تو آپ نے ہم سے ان کے متعلق پوچھا جنہیں ہم اپنے اہل و عیال میں چھوڑ آئے تھے۔ ہم نے آپ کو پورا حال سنا دیا۔ آپ انتہائی نرم دِل اور بڑے مہربان تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ارْجِعُوا إِلٰی أَہْلِیکُمْ، فَعَلِّمُوہُمْ وَمُرُوہُمْ، وَصَلُّوا کَمَا رَأَیْتُمُونِی أُصَلِّی، وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَۃُ، فَلْیُؤَذِّنْ لَکُمْ [1] صحیح البخاری: ۳۲۱۲.