کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 53
یُعْطِی، وَلَنْ تَزَالَ ہٰذِہِ الأُمَّۃُ قَائِمَۃً عَلٰی أَمْرِ اللّٰہِ، لاَ یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ، حَتّٰی یَأْتِیَ أَمْرُ اللّٰہِ)) [1] ’’اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دِین کی سُوجھ بوجھ عطا فرما دیتا ہے۔ میں تو بس تقسیم کرنے والا ہوں، دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ اُمت ہمیشہ اللہ کے اَمر پر قائم رہے گی اور ان کے مخالفین انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے۔‘‘ کے بارے میں جب امام اہل السنۃ والجماعۃ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اس سے مراد کون لوگ ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: إِنْ لَمْ یَکُونُوا أَھْلَ الْحَدِیثِ فَلَا أَدْرِی مَنْ ھُمْ۔[2] ’’اگر اس سے مراد اہل الحدیث نہیں ہیں تو پھر میں نہیں جانتا کہ اور کون ہوسکتے ہیں؟‘‘ اصحاب الحدیث کے ساتھ منسلک رہنے کی نصیحت کرتے ہوئے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: عَلَیکُمْ بِأَصْحَابِ الْحَدِیثِ فَإِنَّھُمْ أَکْثَرُ النَّاسِ صَوَابًا۔[3] ’’اصحابِ حدیث کو لازم پکڑو، کیونکہ یقینا وہی تمام لوگوں سے زیادہ صحیح راستے پر ہیں۔‘‘ امام ابوعثمان الصابونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: إِنَّ أَصْحَابَ الْحَدِیثِ الْمُتَمَسِّکِینَ بِالْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ، حَفِظَ اللّٰہُ أَحْیَائَ ہُمْ، وَرَحِمَ أَمْوَاتَہُمْ، یَشْھَدُونَ لِلّٰہِ تَعَالٰی بِالْوَحْدَانِیَّۃِ وَلِلرَّسُولِ بِالرِّسَالَۃِ وَالنُّبُوَّۃِ۔[4] [1] صحیح البخاری: ۷۱. [2] فتح الباری لابن حجر: ۱-۲۱۶. [3] الآداب الشرعیۃ: ۱-۲۳۰. [4] عقیدۃ السلف أصحاب الحدیث، ص: ۳، ۴.