کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 529
ثمامہ کو چھوڑ دو۔ چنانچہ وہ مسجد کے قریب ایک کھجور کے باغ میں گیا، وہاں غسل کیا، پھر مسجد میں آیا اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں (یعنی اسلام قبول کر لیا)۔‘‘ 6. مسجد بطورِ عدالت سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: أَنَّہُ تَقَاضَی ابْنَ أَبِی حَدْرَدٍ دَیْنًا کَانَ لَہٗ عَلَیْہِ فِی المَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُہُمَا حَتّٰی سَمِعَہَا رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم وَہُوَ فِی بَیْتِہٖ، فَخَرَجَ إِلَیْہِمَا حَتّٰی کَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِہٖ، فَنَادٰی: ((یَا کَعْبُ)) قَالَ: لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((ضَعْ مِنْ دَیْنِکَ ہٰذَا)) وَأَوْمَأَ إِلَیْہِ: أَیْ الشَّطْرَ، قَالَ: لَقَدْ فَعَلْتُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((قُمْ فَاقْضِہٖ))[1] ’’انہوں نے (یعنی کعب رضی اللہ عنہ نے) مسجد میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا تقاضا کیا تو (دورانِ بحث) ان دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے حجرے میں سنا۔ آپ باہر تشریف لائے اور حجرے کا پردہ اُٹھا کر آواز دی: اے کعب۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے قرض میں سے کچھ کم کر دو۔ آپ نے آدھا قرض چھوڑنے کا اشارہ فرمایا۔ تو کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیاـ: اے اللہ کے رسول! آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اُٹھو، اس کا قرض ادا کرو۔‘‘ 7. مسجد بطورِ دفاعی مقام سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: [1] صحیح البخاری: ۴۵۷.