کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 525
’’جو مسلمان شخص نماز و ذِکر کے لیے مساجد میں باقاعدگی سے حاضر ہوتا ہے؛ اللہ تعالیٰ اس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے کسی مسافر کے گھر والے اس کے گھر واپس آنے پر خوش ہوتے ہیں۔‘‘ 9. اندھیرے میں مسجد میں آنے کی فضیلت سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((بَشِّرِ الْمَشَّائِینَ فِی الظُّلَمِ إِلَی الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) [1] ’’اندھیرے میں مساجدکی جانب چل کرجانے والوں کوروزِقیامت کامل نورکی بشارت دے دو۔‘‘ 10.صبح و شام مسجد میں آنے کی فضیلت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ غَدَا إِلَی الْمَسْجِد أَوْ رَاحَ، أَعَدَّ اللّٰہُ لَہٗ فِی الْجَنَّۃِ نُزُلاً کُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ)) [2] ’’جوصبح یاشام کے وقت چل کرمسجدمیں آئے اللہ تعالیٰ اس کے ہرصبح وشام چلنے کے بدلے میں اس کے لیے جنت میں قیام گاہ تیارفرمادیتا ہے۔‘‘ مسجد کے مقاصد ہم نے مسجد کو صرف نمازوں کی ادائیگی تک ہی محدود کر دیا ہے، جبکہ اوّلیں اسلامی معاشرے میں مسجد کا کردار بہت وسیع اور اہم ہوتا تھا۔ اس سے اللہ کی بندگی کے اور بھی بہت سے بھلائی کے کام لیے جاتے تھے، جس سے یہ صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ مسلمانوں کے ایک [1] سنن أبی داود: ۵۶۱. [2] صحیح البخاری: ۶۳۱۔ صحیح مسلم: ۶۶۹.