کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 524
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم : ((تَامَّۃٍ، تَامَّۃٍ، تَامَّۃٍ)) [1] ’’جس شخص نے فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی، پھر بیٹھ کر اللہ کا ذِکر کرنے لگا، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا، پھر اس نے دو رکعت نماز ادا کی، تو اس کو ایک حج اور ایک عمرے کا اجر ملتا ہے۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکمل، مکمل، مکمل۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ مکمل کہہ کر تاکید کر دی کہ ایسے شخص کو بالکل اتنا ہی اجر و ثواب ملتا ہے جتنا کہ حج اور عمرہ کرنے والے آدمی کو ملتا ہے۔ 7. مسجد میں آنا اللہ کی زیارت کے مثل ہے سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ تَوَضَّأَ فِی بَیْتِہٖ فَأَحْسَنَ الْوضُوئَ ثُّمَ أَتَی الْمَسْجِدَ، فَہُوَ زَائِرُ اللّٰہِ، وَحَقٌّ عَلَی الْمَزُورِ أَنْ یُکْرِمَ الزَائِرَ)) [2] ’’جو اپنے گھرمیں اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد میں آئے تو وہ اللہ کی زیارت کرنے والا ہے اور جس کی زیارت کی جائے اس کا حق ہے کہ وہ زیارت کرنے والے کی عزت کرے۔‘‘ 8. مسجد میں باقاعدگی سے حاضری کی فضیلت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا تَوَطَّنَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ لِلصَّلَاۃِ وَالذِّکْرِ، إِلَّا تَبَشْبَشَ اللّٰہُ لَہٗ، کَمَا یَتَبَشْبَشُ أَہْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِہِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَیْہِمْ)) [3] [1] سنن الترمذی: ۵۸۶۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۳۴۰۳. [2] الترغیب والترہیب للمنذری: ۳۲۲۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۱۶۹. [3] سنن ابن ماجہ: ۸۰۰۔ صحیح الجامع للألبانی: ۵۶۰۴.