کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 523
نکالا۔ ان سب کا ثواب اسے موت کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔‘‘ یہاں ایک بات خاص طور پر ملحوظ رہنی چاہیے کہ اس نیک عمل سے مطلوب صرف اور صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی ہی ہونی چاہیے، تب ہی یہ فضیلت حاصل ہو گی، لیکن اگر مسجد بنانے یا دیگر نیک اعمال کرنے کا مقصد نمود و نمائش اور فقط دِکھلاوا ہو گا تو نہ صرف وہ عمل برباد ہو جائے گا بلکہ اس پر عذاب بھی مرتب ہو گا۔ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے مسجد تعمیر کرنے کے بعد اس پر اپنا نام لکھ دیا تو اس کا یہ عمل اخلاص سے بہت دُور ہے۔[1] 5. باوضو ہو کر مسجد میں جانے کی فضیلت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ تَطَہَّرَ فِی بَیْتِہٖ، ثُمَّ مَشٰی إِلٰی بَیْتٍ مَنْ بُیُوتِ اللّٰہِ لِیَقْضِیَ فَرِیضَۃً مِنْ فَرَائِضِ اللّٰہِ، کَانَتْ خُطْوَتَاہُ إِحْدَاہُمَا تَحُطُّ خَطِیئَۃً، وَالْأُخْرٰی تَرْفَعُ دَرَجَۃً)) [2] ’’جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے، پھر فرائضِ الٰہی میں سے ایک فرض ادا کرنے کے لیے اللہ کے گھروں میں سے ایک گھر کی طرف جاتا ہے، تو اس کے جو دو قدم ہوتے ہیں، ان میں سے ایک قدم گناہ کو مٹاتا ہے اور دوسرا قدم درجے کو بلند کرتا ہے۔‘‘ 6. طلوعِ آفتاب تک مسجد میں بیٹھنے کا اجر سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ صَلَّی الْفَجْرَ فِی جَمَاعَۃٍ، ثُمَّ قَعَدَ یَذْکُرُ اللّٰہَ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، کَانَتْ لَہٗ کَأَجْرِ حَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ))، [1] فتح الباری: ۱-۵۴۵. [2] صحیح مسلم: ۶۶۶.