کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 519
وَبِسْمِ اللّٰہِ خَرَجْنَا وَعَلَی اللّٰہِ رَبِّنَا تَوَکَّلْنَا۔[1] ’’اے اللہ! یقینا میں تجھ سے بہتر داخلے اور بہتر خروج کا سوال کرتا ہوں، اللہ کے نام کے ساتھ ہم داخل ہوئے اور اللہ کے نام کے ساتھ ہی نکلے، اور اللہ تعالیٰ پر؛ جو کہ ہمارا رب ہے، ہم نے توکل کیا۔‘‘ پھر اپنے اہلِ خانہ کو سلام کہے۔ 26. سفرسے واپسی پر بچوں سے معانقہ: سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّیَ بِصِبْیَانِ أَہْلِ بَیْتِہٖ۔[2] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تھے تو اہلِ بیت کے بچوں سے ملاقات کروائی جاتی۔‘‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم مَکَّۃَ، اسْتَقْبَلَتْہُ أُغَیْلِمَۃُ بَنِی عَبْدِ المُطَّلِبِ، فَحَمَلَ وَاحِدًا بَیْنَ یَدَیْہِ وَآخَرَ خَلْفَہٗ۔[3] ’’جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو بنوعبدالمطلب کے چھوٹے بچوں نے آپ کا استقبال کیا، آپ نے ایک کو اُٹھا کر اپنے آگے بٹھا لیا اور دوسرے کو اپنے پیچھے۔‘‘ 27. سفر سے واپسی پر دعوت کا اہتمام: سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم لَمَّا قَدِمَ المَدِینَۃَ نَحَرَ جَزُورًا أَوْ بَقَرَۃً۔[4] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو بکری یا گائے ذبح کی۔‘‘ [1] صحیح الجامع: ۸۳۱۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۲۲۵. [2] صحیح مسلم: ۲۴۲۸. [3] صحیح البخاری: ۱۷۹۸. [4] صحیح البخاری: ۳۰۸۹.