کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 516
الشَّیْطَانِ)) [1] ’’بلاشبہ تمہارا ان گھاٹیوں اور وادِیوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے۔‘‘ چنانچہ اس کے بعد جب بھی آپ پڑاؤ کرتے تو صحابہ ایک دوسرے کے بہت ہی قریب رہا کرتے تھے، حتیٰ کہ اگر ان پر ایک ہی کپڑا تان دیا جائے تو سب پر آ جائے۔ 19. سفر میں آرام کرنے کا ادب: سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم إِذَا کَانَ فِی سَفَرٍ فَعَرَّسَ بِلَیْلٍ، اضْطَجَعَ عَلٰی یَمِینِہٖ، وَإِذَا عَرَّسَ قُبَیْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَہٗ، وَوَضَعَ رَأْسَہٗ عَلٰی کَفِّہٖ۔[2] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں ہوتے اور رات (کے آخری حصے) میں آرام کے لیے لیٹتے تو دائیں پہلو پر لیٹتے اور جب صبح سے ذرا پہلے لیٹتے تو اپنی کہنی کھڑی کر لیتے اور سر ہتھیلی پر ٹکا لیتے (تاکہ گہری نیند نہ سوئیں)۔‘‘ 20. سفرمیں دعائیں کرنا: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ثَلاَثُ دَعْوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَکَّ فِیْہِنَّ: دَعْوَۃُ الْمَظْلُوْمِ، وَدَعْوَۃُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَۃُ الْوَالِدِ عَلٰی وَلَدِہٖ))[3] ’’تین دعاؤں کے مقبول ہونے میں کوئی شک نہیں ہے: مظلوم کی بددعا، مسافر کی دعا، اور والد کی اپنی اولاد کے خلاف بددعا۔‘‘ 21. سفرمیں کمزروں اور محتاجوں کی مدد: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: [1] سنن أبی داود: ۲۶۲۸. [2] صحیح مسلم: ۶۸۳. [3] سنن الترمذی: ۱۹۰۵.