کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 510
سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ وَإِنَّا إِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ، اَللّٰہُمَّ إِنَّا نَسْأَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ہٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی، اَللّٰہُمَّ ہَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ہٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَہٗ، اَللّٰہُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَۃِ فِی الْأَہْلِ، اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ وَکَاٰبَۃِ الْمَنْظَرِ وَسُوْئِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْأَہْلِ۔ ’’پاک ذات ہے اس کی کہ جس نے اسے ہمارے بس میں کردیا حالانکہ ہمیں اسے قابو کرنے کی طاقت نہ تھی اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اے اللہ! ہم تجھ سے اس سفر میں نیکی اور تقویٰ اوران اعمال کے کرنے کا سوال کرتے ہیں جن کوتو پسند فرماتا ہے۔ اے پرودگار! ہمارے اس سفر کو ہم پر آسان فرمادے اور اس کی دوری کو ہمارے لیے سمیٹ دے۔ اے اللہ! تو ہی سفر میں ہمارا حامی وناصر او رہمارے گھروالوں کا نگہبان ہے۔ اے اللہ! میں سفر کی مشقت، منظر کی غمگینی اور پنے مال وعیال میں بری واپسی سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔‘‘ اور جب سفر سے واپس پلٹتے تو یہی دعا پڑھتے اور ساتھ ان الفاظ کا اضافہ فرماتے تھے: آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنٌَ۔[1] ’’ہم واپس پلٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے پروردگار کی حمد و ستائش بیان کرنے والے ہیں۔‘‘ 14. نکلتے وقت اہل وعیال کو الوداعی دعا: ٭…سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَرَادَ أَنْ یُسَافِرَ فَلْیَقُلْ لِمَنْ یُخَلِّفُ: أَسْتَوْدِعُکُمُ اللّٰہَ الَّذِی [1] صحیح مسلم : ۳۲۶۲.