کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 508
لوگ ہی کھائیں۔‘‘ 8. سفر میں نیک شخص کو سفر کا امیر بنالیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا خَرَجَ ثَلَاثَۃٌ فِیْ سَفَرٍ فَلْیُؤَمِّرُوْا أَحَدَہُمْ)) [1] ’’جب بھی تین آدمی کسی بھی سفر پر نکلیں تو ان کو چاہیے کہ تین میں سے ایک کو امیر مقرر کریں۔‘‘ 9. مل کر اکٹھے سفر کرنا: ٭…سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مِنَ الْوَحْدَۃِ مَا أَعْلَمُ مَا سَارَ رَاکِبٌ بِلَیْلٍ وَحْدَہٗ))[2] ’’تنہاسفر کرنے میں جو مشکلات (نقصانات) ہیں ان کا جتنا مجھے علم ہے اگر لوگوں کو پتہ چل جائے تو کوئی سوار رات کو اکیلے سفر نہ کریں۔‘‘ ٭…سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلرَّاکِبُ شَیْطَانٌ وَالرَّاکِبَانِ شَیْطَانَانِ وَالثَّلاثَۃُ رَکْبٌ)) [3] ’’اکیلا سوار شیطان ہے اور دوسوار دو شیطان ہیں، حقیقی قافلہ وہ ہے جو تین آدمیوں کا ہوتا ہے۔‘‘ 10. ممکن ہو تو سفر میں اہلیہ کو ساتھ رکھنا: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: [1] سنن أبی داود: ۲۶۰۸۔ صحیح الجامع: ۷۶۳. [2] صحیح البخاری: ۲۹۹۸. [3] سنن أبی داود: ۲۶۰۷۔ سنن الترمذی: ۱۶۷۴.