کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 507
((مَنْ قَالَ إِذَ خَرَجَ مِنْ بَیْتَہٖ بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ یُقَالُ لَہٗ کُفِیْتَ وَوُقِیْتَ وَتَنَحّٰی عَنْہُ الشَّیْطَانُ)) [1] ’’جو شخص گھر سے نکلتے ہوئے یہ دعا پڑھتا ہے: شروع اللہ کے نام سے میں نے اسی اللہ پر ہی بھروسہ کیا۔ نہ نیکی کرنے کی ہمت ہے اور نہ ہی گناہ سے بچنے کی استطاعت (جب تک اللہ تعالیٰ کی مد د شامل حال نہ ہو) تو اسے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے لیے کافی ہو گئے اور تجھے شیطان سے بچا لیا گیا اور شیطان اس سے دور ہو جاتا ہے۔‘‘ ٭… سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے نکلتے تھے تو یہ پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ اللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ أَوْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْھَلْ أَوْ یُجْہَلَ عَلَیَّ۔[2] ’’میں اللہ تعالی پر بھروسہ کرتے ہوئے اور اسی کا نام لیے ہوئے گھر سے نکلتا ہوں۔ اے اللہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں پھسل جاؤں یا پھسلا دیا جاؤں ، میں گمراہ ہو جاؤں یا گمراہ کر دیا جاؤں ، میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، میں جہالت کا کوئی کام کروں یا میرے خلاف کوئی جاہلانہ کام کیا جائے۔‘‘ 7. سفر میں نیک آدمی کی مصاحبت: سیدنا ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُوْمِنًا وَلَا یَأْکُلْ طَعَامَکَ إِلاَّ تَقِیٌّ)) [3] ’’تو صرف مومن کی ہی مصاحبت (صحبت ) اختیار کر ، اور تیرا کھانا صرف نیک [1] صحیح الجامع: ۶۴۱۹. [2] سنن أبی داود: ۵۰۹۴۔ سنن النسائی: ۵۴۸۶۔ سنن ابن ماجہ: ۳۸۸۴. [3] سنن أبی داود: ۴۸۳۲۔ سنن الترمذی: ۲۳۹۵.