کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 506
’’اور زادِراہ لے لیا کرو، بلاشبہ بہترین زادِراہ تقویٰ ہے۔‘‘ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: مِنْ کَرَمِ الرَّجُلِ طِیْبُ زَادِہٖ فِی سَفَرِہٖ۔[1] ’’آدمی کی شان یہ بھی ہے کہ اس کے سفری اخراجات پاکیزہ کمائی کے ہوں۔‘‘ 4. گھر والوں کو خبر کر کے نکلیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((کَفٰی بِالْمَرْئِ إِثْمًا أَنْ یَحْبِسَ عَمَّنْ یَمْلِکُ قُوتَہٗ))[2] ’’آدمی کے لیے اتنا گناہ ہی کافی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا مالک ہے، انہیں نہ دے۔‘‘ 5. سفر سے پہلے وصیت لکھیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا حَقُّ امْرِیئٍ مُسْلِم لَہٗ شَیْئٌ یُرِیْدُ أَنْ یُوْصِیَ فِیْہِ یَبِیْتُ لَیْلَتَیْنِ إِلَّا وَ وَصِیَّتُہٗ مَکْتُوْبَۃٌ عِنْدَہٗ))[3] ’’کسی مسلمان کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنی کسی چیز میں وصیت کرنا چاہتا ہو پھر دو راتیں گزار دے مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہونی چاہیے۔‘‘ 6. سفرسے پہلے گھر سے نکلنے کی دعا پڑھیں: ٭…سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] احیاء علوم الدین: ۲/۲۵۱. [2] صحیح مسلم: ۹۹۶. [3] صحیح البخاری: ۲۸۳۸۔ صحیح مسلم: ۱۶۲۷.