کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 504
کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ إِلٰی دُنْیَا یُصِیبُہَا أَوِ امْرَأَۃٍ یَتَزَوَّجُہَا، فَہِجْرَتُہٗ إِلٰی مَا ہَاجَرَ إِلَیْہِ)) [1] ’’یقینا اعمال کا دارومدار نیت پر ہی ہے اور آدمی کو صرف وہی ملتا ہے جو اس نے نیت کی ہو، لہٰذا جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہی (شمار) ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کی غرض سے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہی (شمار) ہو گی جس کام کے لیے اس نے ہجرت کی ہو گی۔‘‘ یعنی اگر آدمی کا سفر بھی نیک اور بھلائی کے کام کے لیے ہو، جس سے مطلوب و مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہو تو اس کو یقینا اس سفر کا اجر و ثواب بھی ملے گا اور رب تعالیٰ کی رضامندی و خوشنودی بھی حاصل ہو گی لیکن اگر ارادہ اس کے برعکس ہو گا تو ایسا مسافر رضائے الٰہی سے محروم رہے گا۔ 2. سفر سے پہلے استخارہ: سفر کرنے سے پہلے استخارہ کر لینا چاہیے کہ آیا یہ سفر میرے لیے باعثِ خیر ہو گا یا نہیں؟ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ سفر کسی نقصان یا برائی کا باعث بننا ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ کر لے گا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام معاملات میں استخارہ کرنے کی تعلیم یوں دیا کرتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی تمہیں کوئی اہم معاملہ درپیش ہو تو فرض نماز کے علاوہ دو رکعات (نفل نماز) پڑھیں اور پھر یہ دعا پڑھیں: [1] صحیح البخاری: ۶۶۸۹۔ صحیح مسلم: ۱۹۰۷.