کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 502
5. معیشت کا بندوبست: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ ﴾ [المزمل: ۲۰] ’’اور دوسرے لوگ زمین میں چل پھر کر اللہ کا فضل (یعنی روزی) تلاش کرتے ہیں۔‘‘ اسی طرح فرمایا: ﴿ هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ﴾ [الملک: ۱۵] ’’وہ ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست و مطیع کر دیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کا رِزق کھاؤ، اسی کی طرف (مرنے کے بعد) اُٹھ کر جانا ہے۔‘‘ 6. صحت یابی اور بیماری سے چھٹکارہ: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ: إِنَّ نَاسًا مِنْ عُکْلٍ وَعُرَیْنَۃٍ قَدِمُوْا الْمَدِیْنَۃَ عَلَی النَّبِیِّ صلي اللّٰه عليه وسلم وَتَکَلَّمُوْا بِالْإِسْلَامِ۔ فَقَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنَّا کُنَّا أَہْلَ ضَرْعٍ وَلَمْ نَکُنْ أَھْلَ رِیْفٍ، وَاسْتَوْخَمُوْا الْمَدِیْنَۃَ فَأَمَرَلَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم بِذَوْدٍ وَرَاعٍ، وَأَمَرَہُمْ أَنْ یَخْرُجُوْا فِیْہِ فَیَشْرَبُوْا مِنْ أَلْبَانِہَا وَأَبْوَالِہَا فَفَعَلُوْا فَصِحُّوْا۔[1] ’’قبیلہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے [1] صحیح البخاری: ۴۱۹۲۔ صحیح مسلم: ۱۶۷۱.