کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 501
نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے جواب دیا: میں اس بستی میں اپنے بھائی سے ملنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ فرشتے نے کہا: کیا تیرے ذِمے اس کا کوئی احسان ہے جو چکانے جا رہا ہے؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ میں اس سے رضائے الٰہی کی خاطر محبت کرتا ہوں۔ فرشتے نے کہا: یقینا میں تیری طرف اللہ کا نمائندہ (یہ پیغام لایا) ہوں کہ اللہ بھی تجھ سے اسی طرح محبت فرماتا ہے جس طرح تُو اس کی رضا کے لیے اس (مسلمان بھائی) سے محبت کرتا ہے۔‘‘ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ کُتِبَ لَہٗ مِثْلَ مَا کَانَ یَعْمَلُ مُقِیْمًا صَحِیْحًا)) [1] ’’جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اس کے لیے اسی کے مثل اجر و ثواب لکھا جاتا ہے جو وہ قیام اور صحت کی حالت میں عمل کیا کرتا تھا۔‘‘ 4. اللہ کی بادشاہی کایقین: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِلْمُوقِنِينَ ﴾ [الذاریات: ۲۰] ’’اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کے لیے۔‘‘ اسی طرح فرمایا: ﴿ قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ إِنَّ اللّٰهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴾ [العنکبوت: ۲۰] ’’کہہ دیجیے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے ابتدائً تخلیق کی، پھر اللہ ہی دوسری نئی پیدائش کرے گا، یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘ [1] صحیح البخاری: ۲۹۹۶.