کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 500
’’تین دعاؤں کے مقبول ہونے میں کوئی شک نہیں ہے: مظلوم کی بددعا، مسافر کی دعا، اور والد کی اپنی اولاد کے خلاف بددعا۔‘‘ معلوم ہوا کہ سفر وہ سنہری وقت ہوتا ہے جب دعا کو شرفِ قبولیت بخشا جاتا ہے، اس لیے دورانِ سفر فضولیات میں مشغول ہونے یا خاموش رہنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے خیر و بھلائی اور رحمت و مغفرت کی زیادہ سے زیادہ دعائیں کرنی چاہئیں۔ 3. اجر عظیم کاحصول: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ (27) لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ ﴾ [الحج: ۲۷، ۲۸] ’’اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دیجیے، لوگ آپ کے پاس پیدل بھی آئیں گے، دُبلے پتلے اونٹوں پر بھی اور دُوردراز کے علاقوں سے بھی آئیں گے۔ تاکہ وہ اپنے فائدے حاصل کریں اور ان مقررہ دِنوں میں اللہ کے نام کا ذِکر کریں۔‘‘ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَنَّ رَجُلاً زَارَ أَخًا لَہٗ فِیْ قَرْیَۃٍ أُخْرٰی فَأَرْصَدَ اللّٰہُ لَہٗ عَلیٰ مَدْرَجَتِہٖ مَلَکًا فَلَمَّا أَتٰی عَلَیْہِ، قَالَ: أَیْنَ تُرِیْدُ؟ قَالَ: أُرِیْدُ أَخًا لِیْ فِیْ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ، قَالَ: ہَلْ لَّکَ مِنْ نِعْمَۃٍ تَرُبُّہَا؟ قَالَ: لَا غَیْرَ أَنِّیْ أَحْبَبْتُہٗ فِی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: فَإِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ إِلَیْکَ بِأَنَّ اللّٰہَ قَدْ أَحَبَّکَ کَمَا أَحْبَبْتَہٗ فِیْہِ)) [1] ’’ایک آدمی دوسری بستی میں اپنے (مسلمان) بھائی سے ملنے کے لیے گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے پر ایک فرشتہ بٹھا دیا۔ جب وہ اس مقام پر آیا تو فرشتے [1] صحیح مسلم: ۲۵۶۷.