کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 50
نَفْسِی بِیَدِہٖ لَتَفْتَرِقَنَّ أُمَّتِی عَلٰی ثَلَاثٍ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً، فَوَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَاثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ فِی النَّارِ)) ’’یہود 71فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے، (جن میں سے) ایک فرقہ جنت میں جائے گا اور ستر جہنم میں۔ نصارٰی 72فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے، اکہتر جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقینا میری اُمت 73فرقوں میں تقسیم ہو گی (جن میں سے) ایک جنت میں جائے گا اور 72 جہنم میں جائیں گے۔‘‘ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ (جنت میں جانے والے) کون لوگ ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ہُمُ الْجَمَاعَۃُ)) [1] وہ لوگ ’’جماعت‘‘ ہوں گے۔ اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ بَنِی إِسْرَائِیلَ تَفَرَّقَتْ عَلٰی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِینَ مِلَّۃً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِی عَلٰی ثَلَاثٍ وَسَبْعِینَ مِلَّۃً، کُلُّہُمْ فِی النَّارِ إِلَّا مِلَّۃً وَاحِدَۃً)) ’’یقینا بنی اسرائیل 72فرقوں میں بٹ گئے تھے جبکہ میری اُمت 73فرقوں میں تقسیم ہو گی، جو سب کے سب جہنمی ہوں گے، سوائے ایک کے۔‘‘ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ ایک کون ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا أَنَا عَلَیْہِ وَأَصْحَابِی)) [2] ’’جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر قائم ہوں گے۔‘‘
[1] صحیح الجامع: ۱۰۸۲۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۴۹۲. [2] سنن الترمذی: ۲۶۴۱.